آخر عمران خان نے اتنی خاموشی سے وزیراعظم ہاؤس کیوں چھوڑدیا؟

کل رات میں نے اک خواب دیکھا۔وزیراعظم عمران خان،جنرل باجوہ صاحب،آئی ایس آئی کے چیف اور ڈی جی آئی ایس پی آرا آپس میں میٹنگ کررہے تھے۔اس میٹنگ کا ایجنڈہ یہ تھا کہ کیسے عمران خان کی حکومت بچائی جائے اور اگلے پانچ سال کے لیے بھی عمران خان کی حکومت ہی عوامی طاقت سے لائی جائے۔

ہر ایک کا اپنا نقطہ نظر تھا۔وزیراعظم عمران خان صاحب چاہتے تھے کہ فوج اس بیرونی مداخلت پر کھل کر خان صاحب کا ساتھ دے۔اور اس ہارس ٹریڈنگ پر بیان دے۔جنرل باجوہ صاحب کا خیال تھا کہ کہ اگر ہم نے ایسا کیا تو پی۔ڈی۔ایم کا یہ بیانیہ کہ عمران خان کو فوج لائی ہے،کومزید تقویت ملے گی۔اور عمران خان اپنی موجودہ بڑھتی ہوئی مقبولیت کھو دیں گے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے جنرل باجوہ سے کہا کہ سر آپ کی بات درست ہے مگر کیا ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ ہم تمام منحرف ارکان اور پارٹیوں کے  ایم این ایز کی پیسے لینے کی ویڈیوز بمعہ ثبوت عدالت میں پیش کردیں۔اور شہباز شریف اور حمزہ کے کیسز میں انہیں عدالت سے ریلیف نہ ملنے دیں۔سارےثبوت نیب اور ایف آئی کے وکلاء کو فراہم کر دیے جائیں ۔ثبوت دیکھنے کے بعد تو عدالت ان کی ضمانت ضبط کر دے گی۔

مارخور اک سائیڈ پر بیٹھا سب کی تجاویز خاموشی سے سن رہا تھا۔ وزیر اعظم پاکستان نے آئی ایس آئی کے چیف سے مخاطب ہوتے ہوئے پوچھا۔سر آپکا کیا خیال ہے۔مارخور جو کہ گہری سوچ میں گم تھا۔ایک دم چونک کر وزیراعظم پاکستان کی طرف دیکھا اور کچھ سوچتے ہوئے بولا۔گستاخی معاف میں کسی سے بھی متفق نہیں۔میرا خیال ہے کہ ابھی حکومت کو بچانے کے بارے میں سوچنا بے وقوفی ہے۔حکومت کو جانے دینا چاہیےاور اگلی مظبوط اور مستحکم حکومت کے بارے میں سوچنا چاہیے۔سبھی کے چہروں کے تاثرات سےپتہ چل رہا تھاکہ وہ مارخور کو خبطی سمجھ رہے تھے۔ لیکن مارخور کے چہرے پر موجود سنجیدگی اور اس کی آواز میں موجود مضبوطی اور اطمینان دیکھ کر سب اس کی بات مزید سننے کو بیتاب تھے۔مارخور نے ایک لمبا سانس لیا اور بولا، میں وزیراعظم کو جو کچھ بولوں گا وہ عوام کے موڈ کی بات ہے۔اگر آپ آج حکومت چھوڑ دیں تو آنے والی حکومت آپ کی ہوگی لیکن اگر آپ آج حکومت نہیں چھوریں گے تو آنے والی حکومت میں پھر آپکو بیساکھیوں کی ضرورت ہوگی جو کہ آپکو قابل قبول نہیں ہوگی۔ میں درست بول رہا ہوں نا محترم پرائم منسٹر صاحب، عمران خان نے سر کی جنبش سے مارخور کو بات جاری رکھنے کا کہا۔ 

مارخور اب جو بات کرنے جا رہا تھا وہ سن کر وزیر اعظم کے ہوش اڑنے والے تھے۔ مارخور نے کہا کہ اگر فوج آپکا ساتھ دیتی ہے تو پی۔ڈی۔ایم کا بیانیہ درست ہو جائے گا۔اور اگر نہیں دیتی تو پھر بھی جہاں تک میری انفارمیشن ہے بساط بچھائی جا چکی ہے۔آپ نے بس یہ کرنا ہے کہ آخری لمخے تک قومی اسسمبلی کے اجلاس کو کھینچنا ہے۔اس سے وہ تمام قوتیں آشکار ہو جانیں گی  جو کہ ابھی تک پسِ پردہ ہیں۔اس سے عوام کو مزید سمجھنے کو ملے گا کہ کونسا ادارہ ریاست کے ساتھ ہے اور کونسا آپ کے خلاف۔عمران خان صاحب کو مارخور کی باتیں سمجھ میں آ رہی تھیں۔

مارخور نے کہا کہ آپ اوپر اوپر سے استعفوں کی بات جاری رکھیں۔اور جب شہبازشریف صاحب کے کاغذات نامزدکی جمع ہونے کا وقت ہوگا تو آپ بھی کسی کو وزیراعظم کےامیدوار کے طور پر کھڑا کریں۔پی۔ڈی۔ایم ریاست کے کسی ادارے کی مدد سےشہباز شریف کو نامزد کروا دے گی۔اب آپ اس خبر کو پھیلا دیجئے گا کہ ہم قومی اسمبلی سے آج ہی استعفے دے رہے ہیں۔اور پی۔ڈی۔ایم بوکھلاہٹ میں عوام کو بہت زیادہ ریلیف دینے کی بات کرے گی۔وہ ملازموں کی تنخواہیں برھائے گی اور مزدور کی کم سے کم اجرت بڑھانے کی بات کرے گی۔ان کا یہ خیال ہوگا کہ اگر عمران خان استعفُی دے دے گا اسمبلی سے تو ہم لوگوں سے یہ بولیں گے کہ دیکھو ہم نے غریب کی بات کی تو عمران خان نے اپنی انا میں استعفے ہی دے دیے۔تاکہ ہم غریبوں کی کوئی مدد نہ کر سکیں۔لیکن جب وہ تنخواہیں بڑھائیں گے تو چیزوں کی بیداواری لاگت بٖٖڑھ جائے گی۔آپ کے اس موو کی وجہ سے غریبوں کا بھلا ہو جائے گا۔ اور آپ ہمیشہ سے یہی جاہتے ہیں۔

لوگ آپ کے حق میں باہر نکلیں گے۔بھکاریوں کو پیسے نہیں دیں گے۔اور یہ آئی ام ایف کے پاس جائیں گے۔ جس سے آپکے دعوے کو تقویت ملے گی۔اور یہ آپ کو نیچا دکھانے کے چکروں میں خود بہ خود اپنے ہی دعووں کی دلدل میں بھنستے جایئں گے۔آپ عوام کو صرف ان کے دعوے یاد رکھواتے جائیے گا۔ باقی کام عوام خود کر لے گی۔

اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اگی حکومت میں آنے کے بعد غداروں کا صفایا کیسے کرنا ہے؟

اسی دوران روزہ رکھنے کا اعلان ہوگیا اور میری آنکھ کھل گئی۔باقی کا خواب آج رات دیکھوں گا۔ اللہ کرے میرا یہ خواب حقیقت پر مبنی ہو۔آمین۔

پاکستان زندہ باد۔۔۔۔۔ بھکاری اور ان کے حواری مردہ باد 

Comments

Post a Comment